ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج کرنے والی سبھی عرضیوں کو دہلی ہائی کورٹ نےکیا خارج؛ مطالبہ کو ٹہرایا ناجائز

اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج کرنے والی سبھی عرضیوں کو دہلی ہائی کورٹ نےکیا خارج؛ مطالبہ کو ٹہرایا ناجائز

Mon, 27 Feb 2023 23:00:04    S.O. News Service

نئی دہلی، 27؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج کرنے والی سبھی عرضیوں کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر خارج کر دی کہ "اس اسکیم کو لانے کا مقصد ہماری افواج کو بہتر طریقے سے تیار کرنے کا ہے اور یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن عرضیوں میں پرانی پالیسی کی بنیاد پر تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا، عدالت نے ان کے مطالبات کو بھی یہ کہتے ہوئے خارج کیا کہ مطالبہ جائز نہیں ہے۔

دراصل ملک کے الگ الگ حصوں میں اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج دیتے ہوئے عرضیاں داخل کی گئی تھیں اور پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سبھی معاملوں کی سماعت دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کر دی تھیں۔ آج دہلی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور سبرامنیم پرساد کی بینچ نے داخل عرضیوں پر فیصلہ سنایا۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم ڈیفنس ریکروٹنمنٹ میں سب سے بڑی پالیسی پر مبنی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ فوج میں بھرتی کے عمل میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سبرامنیم پرساد کی ڈویژنل بینچ نے 15 دسمبر کو اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا۔ دراصل مسلح افواج میں نوجوانوں کی بھرتی گزشتہ سال 14 جون سے شروع کی گئی تھی۔ اس منصوبہ میں نوجوانوں کو چار سال کے لیے فوج میں شامل کیا جائے گا۔ اس معاملے میں عرضی دہندگان کا کہنا تھا کہ 75 فیصد امیدوار چار سال بعد بے روزگار ہو جائیں گے اور ان کے لیے کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے۔

عدالت میں پیش عرضی دہندگان میں سے ایک نے گزشتہ 12 دسمبر کو کہا تھا کہ "چھ ماہ میں مجھے جسمانی قوت تیار کرنی ہے اور اسلحوں کا استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ چھ ماہ بہت کم وقت ہے۔ ہم قومی سیکورٹی سے سمجھوتہ کرنے جا رہے ہیں۔"


Share: